Home About Writers Blogs Magazine Gallery Contact
Login Register
Daur e hazir

مخلوط نصاب تعلیم اور بڑھتا فتنہ ارتداد

Mohammad Asif Siddiqui Ahsani Misbahi Jul 29, 2026 11 Views 1 min read
اللہ تعالی نے نوع بنی انسان کو غیر متناہی انعامات و اکرامات سے بہرہ مند فرمایا ہے،
 لہٰذا ایک معزز آدمی کے لیے سب سے بڑی نعمت اس کا ایمان ہے کیونکہ ایمان صاحبِ ایمان کا سرمایۂ حیات ہوتا ہے۔
ایک حقیقی مومن اس کی بقا کی خاطر اپنی ہر دل عزیز شے بھی قربان کرنے میں دریغ نہیں کرتا مگر کچھ ناعاقبت اندیش اس کی اہمیت اور قدر و منزلت سے نا بلد ہیں لیکن مخالف قوتیں ہر لحظہ مسلمانوں کو اس دولت سے محروم کرنے کے لیے قسم قسم کے حربہ سے حملہ آور ہیں مگر وہ مغرب زدہ ماحول کے دام فریب میں اور دنیا کی آرائش و زیبائش میں اس قدر منہمک ہو چکے ہیں کہ افہام و تفہیم کے تمام طرق استعمال کرنے کے باوجود خواب غفلت سے بیدار ہونے کو تیار نہیں-
 اس موقع پر ڈاکٹر اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے
  *واۓ ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا* 
  *کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا*۔

 یہ بات طلب تنقیح نہیں کہ دشمنان اسلام ہمیشہ سے مسلمانوں کو زیر کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے،تاریخ کے اوراق اس بات پر شاہد ہیں کہ جب وہ مبینہ طور پر اہل اسلام کا مقابلہ و مبارزہ نہ کر سکے تو انہوں نے اندرونی طور پر مسلمانوں کو توڑنےکی ناکام کوششیں کی خواہ وہ وہابیت، دیوبندیت ہو یا قادیانیت،نیچریت کی صورت میں ہو یہ فِرَق ضالّہ لبادۂ اسلام میں دشمن اسلام کی نمائندگی کرتے رہے یہاں تک کہ علمائے ربانیین بالخصوص چشم و چراغِ خاندانِ برکات امام احمد رضا خان قادری برکاتی (علیہ رحمۃ الوافی) نے ان کی ریشہ دوانیوں کو طشت ازبام کر دیا جس کا ثمرہ یہ ہوا کہ بہت سے بھولے بھالے سادہ لوح مسلمان ان کے دام تزویر سے محفوظ ہو گئے اسی طرح کا فتنہ بلکہ اس سے خطرناک اس پرفتن دور میں بھی سر اٹھا رہا ہے جہاں امت مسلمہ انحطاطی کے عالم میں ہے چہار جانب سے باطل قوتوں نے اس کو گھیر رکھا ہے یہ فتنہ خود مسلمانوں کے اندر سے جنم لے رہا ہے۔
  یہ فتنہ *ارتداد کا فتنہ* ہے
 
*اس کے مَنصہ شہود پر آنے کے متعدد اسباب ہیں*:

*مخلوط نصاب تعلیم*: یہ اہم اس لیے ہے کہ یہ فتنہ کالج یونیورسٹی کے ذریعے ہی معرض وجود میں آیا ہے یہ بات ذہن نشیں کر لیں کہ مخلوط تعلیم کا اسلام میں تصور نہیں کیونکہ اسلام دین فطرت ہے جو کہ مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے اور یہ بات مسلم ہے کہ لڑکا اور لڑکی کا ایک ساتھ زندگی بسر کرنا اور ایام و اوقات کا گزارنا رشتۂ ازدواج سے منسلک ہوۓ بغیر ناقابل مقبول اور نزول غضب الہی کا سبب ہے لیکن آج کل کے حالات وواقعات سے آپ بخوبی واقف ہیں کہ طالب اور طالبہ کے درمیان کس طرح کے معاملات ہوتے ہیں طالب علم کی نگاہ خشیت الہی کے نور سے منور ہونے کی بجائے دنیا کی زیب و زینت کی جانب مرتکز ہے اور طالبہ جس کو پیکرِحیا ہونا تھا وہ آزادی کے نام پر بے حیائی کے رستے کی مسافر بنتی جا رہی ہے معلوم نہیں ہوتا کہ یہ علم کے طلبگار ہیں یا کسی اور ہی شے کے،
 اس کے جراثیم اس قدر پھیل گئے ہیں کہ جس کا اندازہ لگانا مشکل سا امر تصور ہوتا ہے کیونکہ اہل اسلام کے اندر حصول دنیا کا تصور جزءِ لاینفک کی طرح سرایت کر گیا ہے، اور والدین نے مرکز علم و ادب کالج اور یونیورسٹی کو ہی سمجھ لیا اور تربیت جیسے اہم فریضہ سے اظہار برأت کر لیا ہے اور اپنی اولاد کو بلا تأمل و تدبر دنیا کی زینت بننے اور حصول دنیا کی خاطر ایسے کالج اور یونیورسٹی کی راہ دکھائی ہے جہاں مغربی ماحول کی ترویج و اشاعت ہوتی ہے- نتیجة طالب علم جب اس جگہ قدم رکھتے ہیں تو طلباء کو اس بات کی خبر نہیں ہوتی کہ ہم مذہب اور بد مذہب کے ساتھ کیا روش اختیار کرنی ہے اور باہمی تعلّقات کی اسلام نے کس قدر اجازت مرحمت کی ہے - 
جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بلا تمیز مذہب و ملت دوستی کرتے ہیں اور پھر ان کے ساتھ ایام و اوقات کا گزارنا عام سا ہو جاتا ہے اگر کچھ قوم و ملت کا درد رکھنے والے اشخاص وعظ و نصیحت کرتے ہیں تو ان کو میرا وقت میری مرضی کہہ کر متشدد گردانہ جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ تنگ نظر ہیں ان کو ترقی یافتہ دنیا کی کیا خبر پھر وہ لمحہ بلمحہ دشمنان اسلام کے دام فریب میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور منکرین اسلام کے ساتھ ان کے مذہبی تیوہاروں پر مبارکباد دینے سے لے کر شمولیت تک کا سفر بڑی آسانی سے طے ہو جاتا ہے اس لیے کہ ان کا تانا بانا اس طرح کا ہوتا ہے کہ جو ان کی اس طرح ذہن سازی کرتا ہے کہ انہیں حق و باطل کا فرق نظر نہیں آتا اور وہ لمحہ بہ لمحہ دوسرے مذہب کی تعلیم سے متأثر ہو کر اسلام کو قید و بند کا مذہب تصور کرتے ہیں اور قلت علم شریعت اور محرومی عشق مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سبب بلا جھجھک اسلام کے مسلمہ عقائد پر انگشت نمائی کرتے ہیں اور اپنی بد باطنی کا اظہار کرتے ہیں ـ

*شوشل میڈیا کی کثافت کا اثر* : 
ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی کہ ڈرامہDrama ٹی وی سیریلز TV Serials ویب سیریز Web series موویز Movies 
کے اثر آفریں کردار کی اتباع امت کو اس راہ کی طرف لے آئی ہے کہ کیا خواتین کیا نوجوانِ امت اس مہلک مرض میں مبتلا ہیں اس کی طرف بھی اشارہ کردوں کہ معاشرے کی تخریب کاری میں ہندوستانی سیریلز Indian Serials نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جس قدر پاکستانی سیریلز نے اپنا اثر ڈالا ہے بایں معنی کہ ہندوستانی سیریلز میں ہندو رسم و رواج اور ان کے عقائد ونظریات کو دکھایا جاتا ہے جو کہ اسلامی عقائد کے سراسر متصادم ہے بر عکس اس کے پاکستانی سیریلز کیونکہ اِس میں رسم و رواج اور عقائد و نظریات تو وہی نشر کیے جاتے ہیں لیکن اس میں عقائد کی روح نکالی جاتی ہے اور حیا کا جنازہ نکال کر اخلاقیات کشی کی جاتی ہے مثلآ کزنز Cousins کے ساتھ تفریح ومزاح اور بھائی بہن کے نام پر جو خرافات دکھاۓ جاتے ہیں وہ ہماری نگاہوں کے سامنے ہے جس کا ادراک سلیم الفطرت حقیقت شناس ہی کر سکتا ہے، کیونکہ یہ انسانی فطرت کا تقاضہ ہے کہ نگاہ جو عکس بندی کرتی ہے دل میں وہ جا گزیں ہوتی ہے دماغ اس کا تصور کرتا ہے اور زبان اس کا اجراء کرتی ہے گویا زبان منظر کی عکاسی کرتی ہے لہذا منظر پاک ہوگا تو نظر بھی غلاظت سے صاف ہوگی اسی لیے الله تعالٰی نے مؤمنین و مؤمنات کو غض الابصار کا حکم فرمایا ہے۔
اگر آپ کسی کو سمجھائیں تو آگے سے جواب ملتا ہے کہ یہ اس کے ماموں کی بیٹی ہے ، پھوپھو کا بیٹا ہے، مجھے اس پر اعتماد ہے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غیر محرم سے پردہ واجب ہے۔
 "عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ" .
"حضرت ابن عباسٍ رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تنہائی میں کوئی شخص کسی عورت کے پاس نہ جائے مگر اس کے ذی محرم کے ساتھ " 

خاکم بدہن اگر کچھ نا گفتہ بہ معاملات ہو جائیں تو معتمد علیہ کو مجرم گرداننے میں ذرا بھی لحاظ نہیں رکھتے مزید برآں ماضی کے تمام گناہوں کا پٹارا کھول دیتے حالانکہ یہ وہی شخص ہے جو ابھی قابلِ اعتماد اور پاک طینت تھا۔
 یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ شخصیت سازی میں والدین کی تربیت کے ساتھ ساتھ گرد و نواح کا بھی اہم کردار ہوتا ہے رسول کائنات مفخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اَلْمَرْءُ عَلیٰ دِیْنِ خَلِیْلِہ فَلْیَنْظُرْ اَحَدُکُمْ مَنْ یُّخَالِلُ‘‘
یعنی آدمی اپنے دوست کے دِین اور اس کے طور طریق پر ہوتاہے، لہٰذا ضروری ہے کہ تم دیکھوکہ کس سے دوستی رکھتےہو۔
(المسند لامام احمد بن حنبل، مسند ابی ہریرۃ،۳/۲۳۳، حدیث: ۸۴۲۵) ٭
 ایک موقع پرآپ نے ارشاد فرمایا کہ
 ”لَاتُصَاحِبْ الَّا موٴمنًا وَلاَیأکُلُ طَعَامَکَ الّا تَقِیٌّ“(ابوداؤد) 
تم مومن کے علاوہ کسی کواپنادوست نہ بناؤ اور تمہاراکھاناصرف متقی لوگ کھائیں ۔     
حضرت عبدالله ابن عباس رضی الله عنه فرماتے ہیں: ”لَاتُجَالِسْ أھلَ الأہواءِ فَانَّ مُجَالَسَتَہُمْ مُمَرِّضَةٌ لِلقلبِ“
" بروں کی صحبت میں نہ بیٹھو ؛اس لیے کہ ان کی صحبت دل اور روح کو بیمار کردیتی ہے" ۔
  بزرگان امت نے اسی طرف توجہ مبذول کرائی ہے کہ "صُحْبَتِ صالِح تُرا صالِح کُنَد، صُحْبَتِ طالِح تُرا طالِح کُنَد"

 *ارتداد میں فقر کا کردار* :
 
"وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا وَكَادَ الْحَسَدُ أَنْ يَّغْلِبَ الْقَدرَ "
"روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا قریب ہے کہ فقیری کفر ہوجاوے  
 اور قریب ہے کہ حسد تقدیر پر غالب آجاوے"

میں نے بہت سے لوگوں سے سبب ارتداد کے تعلق سے مکالمہ کیا تو یہ بات آشکار ہوئی کہ معاشرہ میں یہ بات موذی وبا کی شکل میں پھیلی ہوئی ہے کہ اچھی زندگی گزارنے کے لیے صاحبِ ثروت ہونا اہم و ضروری ہے اسی لیے لڑکیاں غیر مسلموں کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہیں 
  کیونکہ منکرین اسلام کو حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے اس لیے ان کو اہل حق کی جانب سے ہونے والے رد عمل سے امان ہے حالانکہ مال بہت کچھ ہے سب کچھ نہیں یہ نظریہ ان کے دل و دماغ میں راسخ کیونکر ہوا تو اس کا واحد سبب جو نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے گھر میں والدین کا پیسے کی تنگی کے باعث باہم بحث و تکرار کرنا زوجہ کا شوہر کی آمدنی سے بڑھ کر ڈیمانڈز کرنا یا شوہر کا بخالت میں انتہا کرنا جس کے سبب گھر امن و سکون کا گہوارہ بننے کے بجائے ہمیشہ آتش فشاں رہتا ہے تو اولاد کو احساس ہوتا ہے قابلِ تسکیں زندگی کی بنیاد مال و دولت ہے۔
 قلت علم شریعت سب سے اہم وجہ ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا زوجہ فرماں برداری اور وفا شعاری کا ثبوت دے اور بقدرِ کفاف پر اکتفا کرکے گھر کا سکون آباد کرے اور شوہر کو چاہیے کہ زوجہ کے اعتماد کو مجروح نا کرے اور نا ہی بیرون خانہ کی پریشانیوں کے سبب اہل خانہ پر غیض و غضب کرے-
 ہر مسلمان کو الله رب العزت کے اس فرمانِ عالیشان سے درس صبر حاصل کرنا چاہیے
   "إن مع العسر يسرا "
بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے _
 اسلام افراط و تفریط نہیں بلکہ متعدل روش اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے
*اشتباہ* : ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے مالدار گھرانے کی بچیاں بھی مرتد ہو رہی ہیں یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اکثریت ہی مالداروں کی ہے تو فقر و فاقہ کیونکر وجہ ہو سکتی ہے 
*جواب*: ہم آپ کی بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اکثریت مالداروں کی ہے لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ ایک حکم کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں اور ایک وجہ فقر بھی ہے حالانکہ اصل وجہ قلت علم ہی ہےـ
 آج کل یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مسلمان بچے بچیاں ہندو دھرم کے دیوی دیوتاؤں کے کردار ادا کرتے ہیں ـ
 
یہ بات مسلم ہے کہ بچے پڑھ کر عمل کرنے سے زیادہ دیکھ کر نقل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں لہذا والدین ہوش کے ناخن لیں ان پر خصوصی توجہ دیں اور فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر کمر بستہ ہو جائیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرْشاد فرمایا:’’اَدِّبُوْا اَوْلَادَکُمْ عَلٰی ثَلاثِ خِصَالٍیعنی اپنے بچوں  کو تین(3)چیزیں  سکھاؤ ، 
حُبِّ نَبِیِّکُمْ اپنے نبی کی مَحَبَّت،
وَحُبِّ اَہْلِ بَیْتِہٖ اوراَہل بیت کی مَحَبَّت،
وَقِرَاءَ ۃِ الْقُرْاٰنِ اور قرآنِ پاک پڑھنا۔
(الصواعقُ المُحرقہ،المقصدُالثانی فیماتضمنتہ تلک الآیۃ من طلب محبۃ آلہ، ص۱۷۲)
    اس لیے کہ اسکول و کالج درسگاہِ علم و حکمت تو ہو سکتے ہیں لیکن حقیقی تعلیم و آدابِ معاشرت دامنِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے انسلاک پر ہی مبنی ہے۔ 

محمد آصف الصدیقي الأحسني 
 الجامعة الأشرفية 
 ۱۰/۱۱/۲۰۲۴