کبھی خانقاہیں روحانی تربیت کا مرکز ہوا کرتی تھیں۔ ان کی چہاردیواری میں سلوک و معرفت کی خوشبو بکھری ہوتی، دلوں کی زمین نرم ہوتی، اور شیخ کا فیض شاگرد کے باطنی امراض کو ختم کرکے انھیں معرفت الہٰی کا اکسیر دیتا ۔ لیکن جیسے جیسے زمانے نے کروٹ لی، ویسے ویسے بعض خانقاہیں روحانیت سے خالی اور رسموں کا مجموعہ بن گئیں، اور اسی طرح بعض افراد نے اپنی شخصیت کو حق کا میزان سمجھنا شروع کر دیا۔
آج المیہ یہ ہے کہ کچھ مخصوص ذہنیتوں نے یہ تأثر عام کیا ہوا ہے کہ تمام مسائل کا حل صرف خانقاہوں میں بیٹھنے، لبادۂ سکوت ملبوس کرنے اور بے چوں و چرا اطاعت کرنے میں ہے۔ گویا وہ سمجھتے ہیں کہ نہ سوال کرو، نہ تحقیق، نہ غور و فکر؛ بس ہماری بات کو “حرف آخر” مانو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ___ کیا واقعی خانقاہوں نے پچھلی چند دہائیوں میں ان تمام فکری، معاشرتی، تعلیمی، یا اخلاقی مسائل کا حل نکالا ہے جن سے امت دوچار ہے؟ یا محض اپنے مقام و مرتبہ کے تحفظ کے لیے لوگوں کو تابع بنانے کی کوشش کی ہے؟
آج کے نوجوان کی فکر بدل چکی ہے۔ وہ صرف سننا نہیں چاہتا، وہ سمجھنا چاہتا ہے۔ وہ کسی شخصیت کے سائے میں دب کر جینے کو زندگی نہیں سمجھتا، وہ دلائل و برہان سے قائل ہونے کی روش پر چل چکا ہے۔ شریعت اب صرف خانقاہی ملفوظات یا وعظ کی پٹاریوں میں بند نہیں، آج کے پڑھے لکھے نوجوان کے ہاتھ میں وہ کتابیں ہیں جن سے وہ خود مسائل اخذ کر سکتا ہے، سنت و بدعت میں تمیز کر سکتا ہے، اور باطل کو پہچان سکتا ہے — چاہے وہ جس لباس میں بھی سامنے آئے۔
خانقاہی نظام، اگر واقعتاً خلوص، روحانیت، اور سنت کی بنیاد پر قائم ہو، تو وہ امت کے لیے نفع بخش ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ صرف مریدوں کی قطار، جاہ و حشم، اور جعلی و تخمینی روحانی اقتدار کا نام ہو جائے، تو وہ نہ صرف اپنی افادیت کھو دیتا ہے بلکہ امت کی فکری ترقی میں رکاوٹ بھی بن جاتا ہے۔
آج قوم کو ضرورت ہے ایسی قیادت کی، جو فکر و عمل میں متوازن ہو .... جو خانقاہ کی روحانیت بھی دے، منبر کی صداقت بھی، اور میدان کی بصیرت بھی۔ اب وہ وقت گزر چکا جب عوام کو اندھی تقلید کی زنجیروں میں جکڑا جاتا تھا۔ اب ہر مخلص طالبِ حق پوچھنے کا حق رکھتا ہے، دلیل مانگنے کا اختیار رکھتا ہے، اور حق کو حق کہنے کی جرأت رکھتا ہے — چاہے وہ کسی کے منصب یا لباس کے خلاف کیوں نہ ہو۔
ہم خانقاہوں کے مخالف نہیں، بلکہ ان کے اصل مقام کے بحال ہونے کے خواہاں ہیں۔ خانقاہ وہ ہو جو اصلاح کرے، شخصیت پرستی ختم کرے، اور امت کو صحیح دینی شعور دے۔ وہ نہیں جو اختلاف رائے کو گستاخی سمجھے اور ہر ناقد کو بے ادب کہہ دے۔
#ابن_اشرف