Home About Writers Blogs Magazine Gallery Contact
Login Register
Daur e hazir

نوجوان مسلم خواتین اور ارتداد کا بڑھتا ہوا مسئلہ

محمد فداء المصطفیٰ قادری Jul 30, 2026 23 Views 1 min read
نوجوان مسلم خواتین اور ارتداد کا بڑھتا ہوا مسئلہ
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم، أما بعد!
اگر ہم آج مسلمانوں میں ارتداد کے بڑھتے ہوئے واقعات، خصوصاً مسلم لڑکیوں کے ایمان سے دور ہونے کے اسباب کا سنجیدگی سے جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ متعدد دینی، تعلیمی، معاشرتی اور فکری کمزوریوں کا حاصل ہے۔ جب ایک معاشرہ اپنی نئی نسل کی دینی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے بجائے صرف دنیاوی ترقی کو اپنی کامیابی کا معیار بنا لے تو پھر ایسے افسوس ناک نتائج سامنے آنا بعید نہیں رہتے۔
سب سے پہلی اور سب سے بڑی وجہ خواتین کی دینی تعلیم و تربیت میں شدید کمی ہے۔ ہمارے معاشرے میں مرد تو کم از کم جمعہ کے خطبات، دینی اجتماعات اور مساجد میں کچھ نہ کچھ دین کی باتیں سن لیتے ہیں، لیکن عورتوں کے لیے نہ گھروں میں باقاعدہ دینی تعلیم کا انتظام ہوتا ہے، نہ قرآن و حدیث کے دروس کا، نہ فقہ و عقائد کی تعلیم کا، اور نہ ہی ان کی ایمانی تربیت پر سنجیدگی سے توجہ دی جاتی ہے۔ نتیجتاً بہت سی بچیاں اسلام کی بنیادی تعلیمات، ایمان کی قدر و قیمت اور اپنے دینی تشخص سے پوری طرح واقف نہیں ہوتیں۔ جب ایمان کی بنیاد ہی مضبوط نہ ہو تو معمولی فتنے بھی انسان کو ہلا دیتے ہیں۔
دوسرا بڑا سبب والدین اور سرپرستوں کی غفلت ہے۔ آج بہت سے والدین اپنی اولاد کو بہترین اسکول، کالج اور یونیورسٹی تو بھیج دیتے ہیں، مگر یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ ان کے عقائد، اخلاق، دوستوں اور دینی زندگی کی کیا حالت ہے۔ تعلیم، لباس، موبائل اور سہولتوں کا خیال رکھا جاتا ہے، لیکن نماز، قرآن، حجاب، اسلامی کردار اور دینی تربیت کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی غفلت بعد میں ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بنتی ہے۔
تیسری بڑی وجہ مسلم تعلیمی اداروں کی کمی ہے۔ بہت سی مسلم بچیاں اعلیٰ تعلیم کے لیے ایسے اداروں میں جاتی ہیں جہاں دینی ماحول موجود نہیں ہوتا۔ اگر گھر کی تربیت بھی کمزور ہو تو وہاں کی صحبت، ماحول اور مختلف نظریات ان کے فکر و کردار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس لیے صرف تعلیم کافی نہیں، بلکہ تعلیم کے ساتھ دینی رہنمائی اور مضبوط اسلامی شناخت بھی ضروری ہے۔
چوتھی وجہ بے پردگی، غیر ضروری اختلاط اور آزادانہ میل جول ہے۔ جب حیا اور پردے کی حدود ختم ہونے لگیں، غیر محرموں سے بے تکلف تعلقات معمول بن جائیں اور دوستی کو ترقی پسندی کا نام دیا جائے تو جذباتی تعلقات جنم لیتے ہیں۔ ایسے تعلقات بعض اوقات انسان کو ایسے فیصلوں تک لے جاتے ہیں جن سے ایمان، عزت اور مستقبل تینوں متاثر ہوتے ہیں۔
پانچویں وجہ موبائل فون، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا غیر محتاط استعمال ہے۔ آج ایک موبائل پورا ماحول بدل دیتا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ، ٹیلیگرام اور دیگر پلیٹ فارموں پر غیر ضروری رابطے، جذباتی گفتگو، جھوٹے وعدے اور دھوکے نوجوان ذہنوں کو متاثر کر سکتے ہیں، خصوصاً جب دینی شعور کمزور ہو اور گھر کی نگرانی نہ ہو۔
چھٹی وجہ فکری یلغار اور الحادی نظریات ہیں۔ آج مختلف ذرائع سے دین پر اعتراضات، شکوک و شبہات اور مذہب بیزار نظریات نوجوانوں تک پہنچ رہے ہیں۔ اگر ان سوالات کے علمی اور اطمینان بخش جوابات نہ ملیں تو بعض افراد ذہنی انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے عقائد کی مضبوط تعلیم اور اہلِ علم سے مسلسل رابطہ ناگزیر ہے۔
ساتویں وجہ دینی دعوت اور اصلاحی محنت میں کمزوری ہے۔ جن گھروں، محلوں اور معاشروں میں خواتین تک دین کی دعوت، تعلیم اور اصلاح کا منظم نظام نہیں پہنچتا، وہاں دینی شعور آہستہ آہستہ کمزور ہوتا جاتا ہے۔ خواتین کے لیے دینی حلقے، قرآن فہمی، سیرتِ نبوی ﷺ کی تعلیم اور ایمانی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ حقیقت بھی سامنے رہنی چاہیے کہ ہر ایسے واقعے کی وجہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات معاشی مسائل، خاندانی تنازعات، گھریلو تشدد، جذباتی استحصال یا دیگر سماجی عوامل بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے ہر معاملے کو تحقیق، انصاف اور ذمہ داری کے ساتھ سمجھنا چاہیے، نہ کہ محض عمومی مفروضوں کی بنیاد پر۔
اگر ہم واقعی اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو صرف افسوس کرنے سے کام نہیں چلے گا، بلکہ گھروں میں دینی ماحول پیدا کرنا ہوگا، بچیوں کی دینی و اخلاقی تربیت کو ترجیح دینی ہوگی، ان کی تعلیم کے ساتھ ان کے ایمان کی حفاظت کی بھی فکر کرنی ہوگی، اور انہیں ایسے علم، شعور اور اعتماد سے آراستہ کرنا ہوگا کہ وہ ہر فکری، اخلاقی اور معاشرتی فتنے کا مقابلہ کر سکیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، باکردار اور اپنے دین پر ثابت قدم نسل کی ضمانت بن سکتا ہے۔
----------------------
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری 
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کیرلا 
جی میل: fidaulmusthafa938@gmail.com