Home About Writers Blogs Magazine Gallery Contact
Login Register
Aqeeda

دین کے لیے زہرِ قاتل

محمد قاسم القادری گھوسوی Jul 28, 2026 50 Views 1 min read
 

مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہوا، شام وسحر کے مطابق منظم قانون عطا کرتا ہے۔ یہ خالص اعتقاد اور آستھا پر ٹکا ہوا دین نہیں بلکہ عقلی دلائل و براہین اس کا اہم ترین رکن ہیں۔
دین ہمیشہ غالب رہا ہے اور رہے گا‌۔ اللہ رب العزت نے اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے تو کبھی اپنے متبعین سے کام لیتا ہے اور حق کو واضح کرتا ہے کبھی منکرین سے بھی۔
لیکن اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ باطل کی تعریف و توصیف مدح و ستائش کی جائے۔ اس کے قصیدے گائے جائیں اس کے کارنامے گنائے جائیں۔ بھولی بھالی عوام کو انکا تابع دار اور فالور بنایا جائے۔ اور کفر و گمرہی کے تاریک گڈھے میں دھکیلا جائے۔*

آج کچھ علماء کو دیکھا جا رہا ہے بلا کسی فکر و تأمل کے قصیدے پڑھے جا رہے ہیں۔ غیر ضروری تحریر و تصاویر کو نشر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ نہ انہیں یہ خبر کہ اس سے عوام پر کیا اثر پڑے گا نہ یہ فکر کہ ان کے ایمان میں تذبذب پیدا ہوگا۔ دل میں باطل سے محبت و انسیت کا شوق پیدا ہوگا۔ 
وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ(113)
 ترجمۂ کنز الایمان
اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حما یتی نہیں پھر مدد نہ پاؤ گے۔

صد افسوس! قرآن نے جن کی پرچھائیوں سے دور رہنے کا حکم دیا ہم انکو سروں پر بٹھائے جا رہے ہیں۔*

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖؕ-وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(68)
 ترجمۂ کنز الایمان
اور اے سننے والے جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں پڑتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لے جب تک اور بات میں پڑیں اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔

*پوچھیے ایسا کیوں؟*
تو جواب ملتا ہے اگر چہ باطل نظریات رکھتا ہے لیکن ایک منٹ کو مان لیجیے بہت اچھا بولتا ہے۔ بڑے مضبوط استدلال کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ 
ہم کیوں ایک منٹ کو مان لیں۔ کیا آپ اپنی جان کو ایک منٹ کے لیے جسم سے جدا ہونا  مان سکتے ہیں۔ نہیں! تو پھر ہم گستاخ و باطل کو ایک منٹ کیسے مان لیں۔

بعض کا کہنا یہ کہ ہم ان سے اچھی چیزیں لے لیتے ہیں، طرز استدلال سیکھتے ہیں۔ بولنے کا ہنر سیکھتے ہیں۔ جواب دینے کا سلیقہ اخذ کرتے ہیں۔
ارے اللہ کے بندے! اب تم کو لعل و گہر کچرے سے ہی حاصل ہونے لگے۔ تمہارے پاس خود جو خزانے موجود ہیں ان میں کب تلاش کرو گے۔ یا صرف اپنی بے مائیگی کو بڑوں کے دامن کا داغ بناتے رہو گے۔ اور یتیمیت کا رونا روتے رہو گے کہ ہمارے پاس کون ہے؟ اتنا قابل کوئی ہے ہی نہیں۔
الحمدللہ الکریم ہماری جماعت میں بہت سے قابل لوگ ہیں۔
لیکن اگر بالفرض  مان بھی لیا جائے کہ تمہاری حیثیت اور قد کا کوئی نہیں مل رہا ہے تو تم خود اس قابل بنو نہ۔ اس پر یہ مت کہہ دینا کہ اسی لیے تو انکو دیکھتے سنتے ہیں تاکہ سیکھیں۔
اس حوالے سے صراط الجنان میں فتاوی رضویہ شریف سے جو نقل کیا گیا منصف مزاج کے لیے کافی ہے۔ ملاحضہ ہو!
"یاد رہے کہ بد مذہبوں کی محفل میں جانا اور ان کی تقریر سننا ناجائز و حرام اور اپنے آپ کو بدمذہبی و گمراہی پر پیش کرنے والا کام ہے۔ ان کی تقاریر آیاتِ قرآنیہ پر مشتمل ہوں خواہ احادیثِ مبارَکہ پر، اچھی باتیں چننے کا زعم رکھ کر بھی انہیں سننا ہر گز جائز نہیں۔ عین ممکن بلکہ اکثر طور پر واقع ہے کہ گمراہ شخص اپنی تقریر میں قرآن و حدیث کی شرح ووضاحت کی آڑ میں ضرور کچھ باتیں اپنی بد مذہبی کی بھی ملا دیا کرتے ہیں ، اور قوی خدشہ بلکہ وقوع کا مشاہدہ ہے کہ وہ باتیں تقریر سننے والے کے ذہن میں راسخ ہو کر دل میں گھر کر جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گمراہ و بے دین کی تقریر و گفتگو سننے والا عموماً خود بھی گمراہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے اسلاف اپنے ایمان کے بارے میں بے حد محتاط ہوا کرتے تھے ،لہٰذا باوجودیہ کہ وہ عقیدے میں انتہائی مُتَصَلِّب و پختہ ہوتے پھر بھی وہ کسی بدمذہب کی بات سننا ہر گز گوارا نہ فرماتے تھے اگرچہ وہ سو بار یقین دہانی کراتا کہ میں صرف قرآن و حدیث بیان کروں گا۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس بارے میں اسلاف کا عمل نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’سیدنا سعید بن جبیر شاگردِ عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو راستہ میں ایک بد مذہب ملا۔ کہا، کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ فرمایا، میں سننا نہیں چاہتا۔ عرض کی ایک کلمہ۔ اپنا انگوٹھا چھنگلیا کے سرے پر رکھ کر فرمایا، ’’وَ لَا نِصْفَ کَلِمَۃٍ‘‘ آدھا لفظ بھی نہیں۔ لوگوں نے عرض کی اس کا کیا سبب ہے۔ فرمایا، یہ ان میں سے ہے یعنی گمراہوں میں سے ہے۔

امام محمد بن سیرین شاگردِ انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس دو بد مذہب آئے۔ عرض کی، کچھ آیاتِ کلام اللہ آپ کو سنائیں ! فرمایا، میں سننا نہیں چاہتا۔ عرض کی کچھ احادیثِ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سنائیں ! فرمایا، میں سننا نہیں چاہتا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ فرمایا، تم دونوں اٹھ جاؤ یا میں اٹھا جاتا ہوں۔ آخر وہ خائب و خاسر چلے گئے۔ لوگوں نے عرض کی: اے امام! آپ کا کیا حرج تھا اگر وہ کچھ آیتیں یا حدیثیں سناتے؟ فرمایا، میں نے خوف کیا کہ وہ آیات و احادیث کے ساتھ اپنی کچھ تاویل لگائیں اور وہ میرے دل میں رہ جائے تو ہلاک ہو جاؤں۔

پھر فرمایا ’’ائمہ کو تو یہ خوف اور اب عوام کو یہ جرأت ہے، وَلَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہْ۔ دیکھو! امان کی راہ وہی ہے جو تمہیں تمہارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بتائی،’’اِیَّاکُمْ وَ اِیَّا ھُمْ لَا یُضِلُّوْنَکُمْ وَلَا یَفْتِنُوْنَکُمْ‘‘ان (بدمذہبوں ) سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کرو، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں ، کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ دیکھو! نجات کی راہ وہی ہے جو تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے بتائی،

’’فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ‘‘(انعام: ۶۸)
یاد آئے پر پاس نہ بیٹھ ظالموں کے۔

بھولے سے ان میں سے کسی کے پاس بیٹھ گئے ہو تو یاد آنے پر فوراً کھڑے ہو جاؤ۔(فتاویٰ رضویہ، ۱۵ / ۱۰۶ ، ۱۰۷ ملخصاً)"

” لا تجالسوھم، ولا تشاربوھم، ولا تؤاکلوھم ولا تناکحوھم “.
یعنی بدمذہبوں کے پاس نہ بیٹھو، ان کے ساتھ پانی نہ پیو، نہ کھانا کھاؤ، ان سے شادی بیاہ نہ کرو۔

بڑے بڑے اپنے وقت کے ایمان و اعتقاد میں مضبوط جب بد مذہبوں کو منھ نہیں لگاتے تھے‌۔ ایک حرف ان سے سننا برداشت نہیں کرتے تھے۔ تو ہمیں کیا کرنا چاہئے! لیکن افسوس آج ہمارا حال یہ کہ ہم اپنوں سے زیادہ انکو سن رہے ہیں۔ ہمیں سارا علم و ہنر انہیں میں نظر آ رہا ہے جو کچھ ملنا ہے بس انہیں سے ملنا ہے اپنے پاس کچھ رہ ہی نہیں گیا۔ 

سوشل میڈیا پر بدمذہبوں کو سننا ان کے ساتھ بیٹھنے کے مترادف ہے۔

اعلی حضرت کی ملفوظ شریف سے چند اقتباسات: 
"عرض: اکثر لوگ بدمذہبوں کے پاس جان بوجھ کر بیٹھتے ہیں۔ ان کا کیا حکم ہے۔
ارشاد: حرام اور بد مذہب ہو جانے کا اندیشہ کامل، اور دوستانہ ہو تو دین کے لیے زہرِ قاتل۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: 
انہیں اپنے سے دور کرو اور ان سے دور بھاگو وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈالیں۔
اور اپنے نفس پر اعتماد کرنے والا بڑے کذاب پر اعتماد کرتا ہے ۔
 انھا اکذب شئ اذا حلفت فکیف اذا وعدت نفس
 اگر کوئی بات قسم کھا کر کہے تو سب سے بڑھ کر جھوٹا ہے نہ کہ جب خالی وعدہ کرے۔
صحیح حدیث میں فرمایا: دجال نکلے گا، کچھ اسے تماشے کے طور پر دیکھنے جائیں گے کہ ہم تو اپنے دین پر مستقیم ہیں، ہمیں اس سے کیا نقصان ہوگا؟ وہاں جا کر ویسے ہو جائیں گے۔"
(ملفوظ شریف ص ٢٧٧)
*بد مذہبوں کی پوسٹیں شیئر کرنا انکی اعانت ہے۔ پھر اس کا کیا حکم کہ شیئر کرنا اور لوگوں کو دیکھنے کی دعوت بھی دینا؟*
"بھڑ (مکھی) کے کاٹنے سے ایک ذرا سی تکلیف ہوتی ہے۔ اگر کہیں اسے زمین پر پڑا دیکھیں کہ اس کا ایک پاؤں یا پر بیکار ہو گیا ہے اور اس میں طاقتِ پرواز نہیں ہے تو اس پر رحم کیا جاتا ہے یا کہ پیر سے مسل دیتے ہیں تو خدا اور رسول ﷺ کی شان میں گستاخیاں کریں اور ان سے دشمنی و عداوت وہ قابلِ رحم ہیں؟ عوام کی یہ حالت ہے کہ ذرا کسی کو ننگا محتاج دیکھا سمجھے کہ قابل رحم ہے، خواہ خدا اور رسول کا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ حضرت سیدی عبد العزیز دباغ فرماتے ہیں ذرا سی اعانت کافر کی کرنی حتی کہ اگر وہ راستہ پوچھے اور کوئی مسلمان بتا دے اتنی بات اللہ تعالیٰ سے اس کا علاقہ قبولیت قطع کر دیتی ہے۔"
(ملفوظ شریف ص ١٦٦)
آخر میں اس چشم کشا اقتباس کو دیکھیں امام کیا فرماتے ہیں۔
"اکابر کی حالت تو یہ اور اب یہ حالت ہے کہ جاہل سا جاہل چٹا پڑتا ہے آریوں سے وہابیوں سے اور کچھ خوف نہیں کرتا۔ جو تمام فنون کا ماہر ہو، تمام پیچ جانتا، پوری طاقت رکھتا ہو، تمام ہتھیار پاس ہوں اس کو بھی کیا ضرور کہ خواہ مخواہ بھیڑیوں کے جنگل میں جائے، ہاں اگر ضرورت ہی آ پڑے تو مجبوری۔ اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے ان ہتھیاروں سے کام لے۔"
(ملفوظ شریف ص ٤٣٤)

خود کو نہیں! بس اپنوں کو کوسنے والے نا شکروں کو یہ اقتباس بار بار پڑھنا چاہیے۔ ذرا دیکھیں تو سہی جن کے سینوں میں علم کا بحر ذخار ہوتا تھا، ہمہ جہت ہوا کرتے تھے وہ بھی کس قدر احتیاط سے کام لیا کرتے تھے، اور بے ضرورت بحث و مباحثہ سے کس قدر بچتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ہم بحث میں خود سے پڑیں گے تو باطل تو شکست کھائے گا ہی، لیکن اس کے پیچھے کتنے فتنے اٹھیں گے۔ عوام کا ایمان کس قدر خطرے میں پڑ جائے گا۔ اشکالات و خرافات کا دروازہ کھلے گا۔ 
اور یہ کہنا کہ ہمارے پاس کوئی نہیں۔ ہم میں کون ہے؟ کسی کی کوئی تیاری نہیں ہے۔ سنجیدہ لوگ ہم میں نہیں پائے جاتے۔
یہ تو ایسا ہے کہ سورج دیکھتے ہوئے کہنا دن ہے ہی نہیں۔ پھر تو اپنی نظروں کا قصور ہے۔
 ہمارے پاس بھی سنجیدہ لوگ ہیں، جامع معقولات و معقولات بھی ہیں، عصریات و یورپیات پر گہری نظر رکھنے والے بھی موجود ہیں لیکن اگر ہماری کوتاہ نظر کسی بد دین، بے دین کو ہی تلاش کرے یا اس پر ٹھہر جائے تو اس میں نظر کا قصور ہے، اپنا قصور ہے۔ آپ سوشل میڈیا پر چند ویڈیو   لائیو دیکھ کر سمجھ گیے کہ اہلسنت و جماعت میں کوئی نہیں ہے۔ گو یا آپ نے سب کو اپنی ہی طرح سمجھ لیا ہے۔

گزارش: اہل علم اور معزز حضرات کی بارگاہ میں درد مندانہ گزارش ہے آپ زہر قاتل کو آب شیر نہ سمجھیں، اور عوام میں بالکل نشر نہ کریں۔ عوام کالانعام ہیں کون سی چیز انکو بھا جائے دل میں اتر جائے معلوم نہیں۔ اتنا ضرور خیال رکھیں کہ آپ عوام کے مقتدا ہیں، آپ جسے تل سمجھ کر شیئر کریں گے عوام اس تل کا پہاڑ سمجھے گی کہ ہمارے مولانا صاحب نے شیئر کیا ہے تو اچھی ہی چیز ہوگی۔ اور پھر خدا ہی ملا نہ وصال صنم ۔*
اللہ رب العزت حامی و ناصر ہو۔
ایمان کے ساتھ خاتمہ بالخیر فرمائے۔
آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم 

بندۂ لاشی:
محمد قاسم القادری گھوسوی