Home About Writers Blogs Magazine Gallery Contact
Login Register
Shakhsiyaat

ہائے رے مظلوم مجدد!

محمد قاسم القادری گھوسوی Jul 28, 2026 34 Views 1 min read
ہائے رے مظلوم مجدد!

صدیاں گزر گئیں، مگر شاید ہی تاریخِ اسلام میں کسی ایسی عظیم علمی و دینی شخصیت پر اتنا ظلم ہوا ہو جتنا امامِ اہلِ سنت، امامِ عشق و محبت، سیدی سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ذاتِ گرامی پر ہوا۔

غیروں نے جو کچھ کہا، سو کہا؛ لیکن دکھ تو اس بات کا ہے کہ اپنوں نے بھی آپ کے علم، فکر اور شخصیت کے ساتھ وہ انصاف نہ کیا جس کے آپ مستحق تھے۔ ہر شخص نے اپنے اپنے مقصد، اپنے اپنے ذوق اور اپنی اپنی رائے کے اثبات کے لیے اعلیٰ حضرت کے نام کو استعمال کیا، مگر بہت کم لوگوں نے اعلیٰ حضرت کو ان کے حقیقی مقام کے ساتھ سمجھنے اور پیش کرنے کی کوشش کی۔

عقائد کے مسائل میں الجھے تو اعلیٰ حضرت کی عبارتوں کو سیاق و سباق سے کاٹ کر اپنے مطلب کے مطابق ڈھال لیا۔ فروعی مسائل میں آئے تو موافق و مخالف، دونوں نے اپنی اپنی تائید کے لیے انہی کے فتاویٰ سے استدلال کیا۔

غرض یہ کہ جسے اپنی گمراہی پر پردہ ڈالنا تھا، اس نے بھی اعلیٰ حضرت ہی کے نام کو ڈھال بنایا۔ جس سے اپنی جہالت، بے احتیاطی یا سفاہت کے باعث کلماتِ کفر صادر ہوئے، اس نے بھی فتاویٰ رضویہ سے تاویلیں تراشنے کی کوشش کی۔

کوئی ڈھول اور مروجہ تازیہ داری جیسے امور کو جائز ثابت کرنے پر تُلا تو اعلیٰ حضرت کی عبارتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ کسی کو سیلفی کے جواز کی فکر ہوئی تو اس نے بھی فتاویٰ رضویہ ہی کا سہارا لیا۔ کوئی اتحاد کے نام پر اپنے نظریات کو تقویت دینا چاہتا ہے تو وہ بھی اعلیٰ حضرت ہی کو دلیل بناتا ہے۔ کسی نے قابلِ تنقید اشعار کہے یا پڑھے تو اپنے دفاع کے لیے حدائقِ بخشش میں کیڑے نکالنے شروع کر دیے۔

اور ظلم کی انتہا تو یہ ہے کہ یہی لوگ، موقع ملتے ہی، تنز و تشنیع کا رخ بھی اعلیٰ حضرت ہی کی طرف کر دیتے ہیں۔

اے امام!

آپ کے ساتھ تو وہ ہونا چاہیے تھا جس کے آپ حق دار تھے، مگر ہوا اس کے بالکل برعکس۔

آپ نے اپنے علم و فضل کی ایسی روشنی پھیلائی کہ عجم ہی نہیں، عرب کے علمی افق پر بھی آپ کا آفتاب پوری آب و تاب سے چمکا۔ آپ نے علم، تحقیق، فقہ، حدیث، تفسیر، تصوف، ادب، منطق، فلسفہ اور بے شمار علوم میں ایسے نقوش چھوڑے جن سے دنیا بھر کے اہلِ علم نے استفادہ کیا۔ آپ کی تعلیم و تربیت کی خوشبو ایشیا سے نکل کر یورپ اور افریقہ تک پہنچی، اور آپ کی تصانیف نے ہر دور کے محققین کو فکر و تحقیق کا سرمایہ عطا کیا۔

لیکن افسوس!

آپ کے نقشِ قدم کو مٹانے والے باہر کے لوگ کم تھے، اندر کے لوگ زیادہ نکلے۔ آپ کی تعلیمات، تشریحات، دلائل اور براہین کی عظمت کو وہ وسعت نہ مل سکی جس کی وہ مستحق تھیں۔ آپ کے نام پر محبت کے دعوے تو بہت ہوئے، مگر آپ کے علمی ورثے کی خدمت کم ہوئی۔
نہ خود آپ کی تعلیمات سے بھرپور فائدہ اٹھایا، نہ دنیا کو ان سے صحیح طور پر روشناس کرایا۔ بلکہ بعض لوگوں نے اپنی بے اعتدالی، تنگ نظری اور غیر ذمہ دارانہ رویوں سے خود بھی انحراف کی راہ اختیار کی اور دوسروں کو بھی اعلیٰ حضرت کی ذات پر اعتراض و تنقید کا موقع فراہم کیا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایک صدی کے اندر اندر اعلیٰ حضرت کی تشریحات، تحقیقات، تحریرات، تقریرات، تنقیدات اور علمی خدمات دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچ جاتیں۔ ہر ملک، ہر خطے، ہر شہر اور ہر علمی مرکز میں آپ کے افکار پر گفتگو ہوتی۔ دنیا کی بڑی بڑی جامعات میں آپ کی فکر پر مستقل تحقیقی مراکز قائم ہوتے۔ آپ کی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوتیں۔ یونیورسٹیوں کے نصاب آپ کے بغیر نامکمل سمجھے جاتے۔ تحقیق کے میدان میں آپ کا حوالہ ناگزیر ہوتا، اور علمی مجالس آپ کے دلائل و براہین سے منور ہوتیں۔

مگر افسوس کہ ہم نے اس علمی خزانے کی قدر نہ کی۔ ہم نے شخصیت سے محبت کا دعویٰ تو کیا، مگر فکر کی خدمت نہ کر سکے؛ نام کا چرچا تو کیا، مگر پیغام کو عام نہ کر سکے۔

آج بھی وقت ہے کہ اعلیٰ حضرت کو اختلافات کا ہتھیار بنانے کے بجائے، ان کے حقیقی علمی، تحقیقی، فکری اور اصلاحی مقام کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ یہی ان سے سچی محبت، حقیقی عقیدت اور بہترین خراجِ عقیدت ہوگا۔

صد افسوس!
صد افسوس!
صد افسوس!

✍️ غم خوردہ 
محمد قاسم القادری گھوسوی